بین الاقوامیخبریں

افغانستان میں سیلاب سے متاثرہ وہ گاؤں جہاں ہر کسی نے اپنے دو یا تین رشتہ داروں کو کھو دیا

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 300 سے زائد افراد ہلاک اور 2000 گھر تباہ ہو گئے، جس سے شمالی افغان صوبے بغلان کے پانچ اضلاع متاثر ہوئے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سیلابی ریلہ آنے کے اگلے دن نور محمد کو اپنے خاندان کے افراد کی لاشیں گلیوں اور کھیتوں سے ملیں۔

75 سالہ نور محمد افغانستان کے شمالی صوبہ بغلان میں اپنے گھر سے سو میٹر کے فاصلے پر تھے جب انھیں جان لیوا سیلابی ریلے کا شور سنائی دیا۔ نور نے پانی کی آواز سن کر فوراً اپنے گھر کی طرف دوڑ لگا دی جہاں ان کی اہلیہ، بہن، بیٹا اور ان کا نواسہ اور نواسی آرام کر رہے تھے۔

لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

اچانک آ جانے والا یہ سیلابی ریلہ ان کا گھر اور خاندان کے افراد کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا تھا۔

یہ سیلاب خشک موسم سرما کے بعد شدید بارشوں اور طوفانوں کے باعث بنا تھا اور زمین کے لیے ان بارشوں کا تمام پانی جذب کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اس سیلاب کی تباہی میلوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ سیلاب میں شمالی صوبہ بغلان بری طرح متاثر ہوا اور سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی وہیں ہوئی ہیں۔ سیلاب کے بعد ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں جنھیں خوراک، پناہ اور ہنگامی طبی امداد کی فوری ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ سیلاب سے 300 سے زائد افراد ہلاک اور 2000 گھر تباہ ہو گئے، جس سے شمالی افغان صوبے بغلان کے پانچ اضلاع متاثر ہوئے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سیلاب سے بدخشاں، غور اور مغربی ہرات کے صوبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

نور کا کہنا ہے کہ ’میں نے خود کو بے بس محسوس کیا۔‘

سیلاب آنے کے اگلے دن نور محمد کو اپنے خاندان کے افراد کی لاشیں گلیوں اور کھیتوں سے ملیں

بغلان کے گاؤں غاز میں وہ سہہ پہر کا وقت تھا جب وہ پاگلوں کی طرح اپنے گھر کے قریبی علاقے میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے اپنے اہلخانہ کے افراد کو تلاش کر رہے تھے لیکن انھیں ان کا کوئی سراغ نہیں ملا تھا۔

انھوں نے اپنی تلاش آدھی رات کو ایک بجے ختم کر دی اور تین گھنٹے کی مسافت پر اپنی بیٹی سعیدہ کے گھر چلے گئے۔ وہ اگلے دن اپنے گھر واپس آئے اور انھیں اپنے اہلخانہ کی لاشیں مل گئی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت تباہ کن تھا۔‘

نور کا کہنا ہے کہ چاہے قدرتی آفات ہوں جو اکثر علاقے کو متاثر کرتی ہیں یا خانہ جنگی جس نے برسوں سے ملک کو دوچار کر رکھا ہے مگر انھوں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسا تجربہ نہیں کیا۔

سعیدہ، جن کی 25 سالہ بیٹی بھی اس دن ان کے والد نور کے گھر میں سیلابی ریلے میں ہلاک ہونے والوں میں سے ایک تھیں، کہتی ہیں کہ سیلاب کی آواز سن کر وہ خوفزدہ ہو گئی تھیں۔

نور کا گاؤں جو اب تک سیلاب کے باعث بذریعہ سڑک ناقابل رسائی ہے، میں ہر کسی نے اپنے دو یا تین رشتہ داروں کو سیلاب میں کھویا اور اس وقت انھیں امداد کی اشد ضرورت ہے۔

روضت اللہ جو کہ ایک نرس ہیں اور انھوں نے فلول نامی سب سے زیادہ متاثرہ گاؤں کا دورہ بھی کیا، کہتے ہیں کہ ’ہم نے ان علاقوں کا بھی دورہ کیا، جہاں سب کچھ بالکل ختم ہو چکا ہے۔‘

فلول میں اکھڑے ہوئے درخت، ٹوٹی ہوئی چٹانیں، بکھری اینٹیں اور ٹوٹی ہوئی کاریں گار اور کیچڑ میں دھنسی ہوئی ہیں۔ سیلاب کے کھڑے پانی سے بننے والا کیچر گرمی کے باعث سخت ہونا شروع ہو گیا ہے، اور ایسے افراد جو اب بھی کھدائی کر رہے ہیں اور اپنا مال و اسباب نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے لیے یہ اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔

محمد گل اپنے گھر کے دو کمروں کو کھودنے کے لیے بیلچے کا استعمال کر رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس چائے پینے کے لیے ایک گلاس یا کپ تک نہیں بچا۔ ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔‘

وہ صرف ایک ہی چیز کو سیلاب سے بچانے میں کامیاب رہے ہیں اور وہ ایک مڑی ہوئی سائیکل ہے جسے وہ گدھے پر لادتے ہیں۔

سیلاب کے کئی دن بعد بھی کچھ خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کی تلاش میں ہیں۔ ایک گھر میں ہجوم جمع ہے۔ یہاں ایک لڑکی کی لاش ملی ہے۔ اسے ایک چادر میں ڈھانپ دیا گیا اور اسے ایمبولینس لے گئی۔

روضت اللہ 15 دیگر نرسوں، پیرامیڈیکس اور ڈاکٹروں کے ساتھ علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے 200 سے زائد زخمیوں کی مدد کی جن میں ایک شخص ایسا بھی شامل ہے جس نے اپنے خاندان کے 16 افراد کو کھو دیا لیکن وہ اب تک سیلاب سے متاثرہ چند دور دراز علاقوں تک نہیں پہنچ سکے جہاں لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت ہے۔

روضت اللہ کہتے ہیں کہ ’یہاں پینے کا پانی نہیں‘ اور خبردار کرتے ہیں کہ ’یہاں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے ٹائیفائیڈ اور اسہال پھیل سکتی ہیں۔

وہ جن علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں، وہاں ان کی ٹیم نے موبائل امدادی مراکز قائم کرنا شروع کر دیے ہیں اور لاشوں کو نکالنے کا کام کر رہے ہیں۔

ہر گاؤں میں بی بی سی کو نقصان اور موت کی ایک کہانی ملی ہے۔

ایک شخص ہمیں اپنے پانچ سالہ بھتیجے ابوبکر کی تصویر دکھا رہا ہے۔ وہ اپنے دادا کے ساتھ کھیل رہا تھا جب سیلابی پانی ان سے آ ٹکرایا۔ جب انھوں نے اس سے نکلنے کی کوشش کی تو اس دوران ابوبکر بہہ گئے۔ ابوبکر نے اپنے دادا کی ٹانگ کو اس قدر مضبوطی سے تھام رکھا تھا کہ جب ان کے دادا نے خود کو بچانے کی کوشش کی تو ان کی ٹانگ پر ابو بکر کی گرفت کا نشان باقی رہ گیا۔ صرف ان کی ماں نے انھیں اس وقت دیکھا تھا جب وہ اپنی گرفت کھو بیٹھا تھا۔

عبدالخالق کو جب سیلاب کی خبر ملی تو وہ شہر سے باہر تھے۔ جب وہ واپس آئے تو ان کے خاندان کے گھروں میں جو کچھ بچا تھا وہ باتھ روم کی دیوار کا ایک چھوٹا ٹکڑا تھا۔ باقی اب سب کچھ ملیا میٹ ہو چکا ہے۔ 18 افراد میں سے اس کے خاندان کے 10 افراد سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم گھر والوں کو گھٹنوں تک کیچڑ میں تلاش کر رہے تھے، اس لیے ہم نے اپنے جوتے اتارے اور تلاش جاری رکھی۔ بالآخر، ہمیں یہاں سے میلوں دور ان کی لاشیں مل گئیں۔‘

دوسرے لوگ تباہی کے لمحے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ کسی نے بس چیخ کر کہا تھا کہ پانی آ رہا ہے۔ کچھ اس سیلابی ریلے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اپنا سارا مال کھو بیٹھے۔

زہرہ بی بی جو اب ترپال سے بنے ایک عارضی خیمے میں رہ رہی ہیں، کہتی ہیں کہ ’سیلاب کے دوران افراتفری کے درمیان میں گھر کی اوپری منزل تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہی تھی کہ اسی اثنا میں ہمارا گھر اور ہمارے تمام مویشی بہہ گئے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی ایسا کچھ نہیں دیکھا۔ سیلاب یہاں کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن ہمیں بتایا گیا کہ 20، 40، 60 برس میں کسی نے اپنے علاقے میں ایسا سیلاب نہیں دیکھا۔

 

گڈن بالا گاؤں میں، محمد رسول ایک ایسے کھیت کے پاس سگریٹ پی رہے ہیں جہاں کبھی ان کی فصلیں اگتی تھیں۔ اب میدان گاڑھے کیچڑ کے پانی کا تالاب بنا ہوا ہے۔

سینکڑوں ایکڑ پر محیط کھیت، کپاس اور گندم کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ہم گندم کے کھیتوں میں سے گزرے جہاں پانی کے زور نے فصل کو دو حصوں میں کاٹ دیا، سیلابی ریلے نے سبز فصلوں کو چیرتے ہوئے اپنے پیچھے صرف ملبہ اور کیچڑ ہی چھوڑا۔

محمد خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کیونکہ ان کا خاندان سیلاب میں بچ گیا لیکن وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے باقی سب کچھ کھو دیا۔

انھوں نے مجھے وہ کھیت دکھایا جہاں ان کی فصلیں برباد ہو گئی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میری آمدنی کا یہی واحد ذریعہ تھا اب میں بے بس اور لاچار محسوس کر رہا ہوں۔‘

80 فیصد افغان باشندوں کی طرح وہ اپنی آمدنی کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ محمد کا کہنا ہے کہ انھیں پتا نہیں کہ اب وہ کیسے گزر بسر کریں گے۔ وہ کچھ فاصلے پر اپنے گھر کی باقیات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے گھر واپس نہیں جا سکتے کیونکہ سیلاب کا پانی اب بھی بہت زیادہ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے پاس اب کچھ نہیں، میں کیا کروں؟ میرے پاس پالنے کے لیے خاندان ہے لیکن میرے پاس کچھ نہیں۔‘

سیلاب سے متاثر ہونے سے پہلے ہی، اقوام متحدہ نے تخمینہ لگایا تھا کہ اس سال تقریباً 24 ملین افراد، افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کو کسی نہ کسی شکل میں انسانی امداد کی ضرورت ہوگی۔

محمد رسول ایک ایسے کھیت کے پاس سگریٹ پی رہے ہیں جہاں کبھی ان کی فصلیں اگتی تھیں

سیلاب سے صرف فصلیں ہی متاثر نہیں ہوئیں۔ محمد کا کہنا ہے کہ ان کے پڑوسی نے سیلاب میں اپنی دو گائیں کھو دیں، وہ ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھیں۔

اور نور، جو اپنی بیٹی کے ساتھ رہ رہے ہیں، کہتے ہیں کہ ان کے پاس صرف وہی چیزیں رہ گئی ہیں جو انھوں نے پہن رکھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو گھر سیلاب میں بہہ گیا وہ وہاں بچپن سے رہتے تھے، ان کے والد نے اسے 65 سال پہلے تعمیر کیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے مستقبل کے بارے میں امیدیں تھیں، میرا بیٹا اور نواسی استاد تھے اور مجھے فخر تھا کیونکہ وہ ملک کے مستقبل میں اپنا حصہ ڈال رہے تھے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ دونوں اب مر چکے ہیں، ’سیلاب نے سب کچھ لے لیا۔‘

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

متعلقہ اشاعت

Qalam Kahani We would like to show you notifications for the latest news and updates.
Dismiss
Allow Notifications