بلاگ

چائلڈ میرج کا خاتمہ کیسے ممکن ہے

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور اگر کسی قوم یا ملک کے مستقبل کا اندازہ لگانا ہو تو اس کے لئے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہاں بچوں کے ساتھ کیسا برتاؤ ہو رہا ہے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان میں بچوں کو بدترین حالات کا سامنا ہے۔ گھروں میں بدسلوکی، چائلڈ لیبر اور بچوں پر تشددو  جنسی استحصال کے واقعات معمول ہیں۔ تاہم ان بچوں میں سب سے بدقسمت بچے وہ ہوتے ہیں جن کی کم عمری میں یا بلوغت سے پہلے ہی شادیاں کر دی جاتی ہیں، کم عمری میں شادی کے باعث لڑکیوں کی جسمانی وذہنی صحت متاثر ہونے، تعلیم کے مواقع ختم ہونے اور فیصلہ سازی میں شمولیت کے امکانات محدود ہو جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں جن لڑکیوں کو کم عمری میں شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ان کے گھریلو تشدد، کم عمری میں مان بننے اور غذائی قلت کا شکار ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی بلند شرح اموات کا گھمبیر مسئلہ بھی کم عمری کی شادیوں سے جڑا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ چائلڈ میرج کے حوالے سے وفاقی قانون چائلد میرج ریسٹرنٹ ایکٹ 1929ء پر انحصار کرتا ہے۔ اس قانون میں ہندوستان پر برطانوی راج کے دوران شادی کے لئے کم ازکم عمر 14 سال مقرر کی گئی تھی۔ بعدازاں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961ء کے ذریعے اسے 16 سال کر دیا گیا تھا۔ اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد 2010ء میں کم عمری کی شادیوں کی روک تھام ایک صوبائی مسئلہ بن گیا۔ اس طرح ایک قومی مسئلے سے نبرد آزما ہونے کے لئے مختلف صوبوں میں رائج الگ الگ قوانین بھی ایک اہم مسئلہ ہیں۔

سندھ اب تک واحد صوبہ ہے جس نے 18 سال سے کم عمری کی شادیوں پر پابندی عائد کی ہے۔ اس کے باوجود کم عمری کی شادیوں کے سب سے زیادہ واقعات سندھ سے رپورٹ ہوتے ہیں اور اکثر واقعات میں یہ شادیاں پنجاب کی حدود میں منتقل ہونے کے بعد کی جاتی ہیں تاکہ 18 سال کی عمر سے پہلے شادی پر عائد پابندی کی خلاف ورزی پر قانون کی گرفت سے بچا جا سکے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2015 اب بھی لڑکیوں کی 16 سال کی عمر میں شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

علاوہ ازیں خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں وفاق کی طرح چائلڈ میرج ریسٹرنٹ ایکٹ 1929ء ہی نافذ ہے جسے تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان 1990ء میں کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ پر دستخط کر چکا ہے جس میں 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں زیادہ تر اسلامی ممالک میں بھی لڑکیوں کے لئے شادی کی کم از کم عمر 18 سال یا اس سے زائد مقرر ہے۔

ان حالات میں جہاں قانون اس قبیح فعل کی مکمل روک تھام میں ناکام نظر آتا ہے وہیں معاشرے کے کچھ کردار ایسے ہیں جو اپنی نئی نسل کو اس ظالمانہ رواج سے بچانے کے لئے ذاتی سطح پر دوسروں کے لئے مثالیں قائم کر رہے ہیں۔

فیصل آباد کے نواحی گاؤں چک 236 ر، ب کے رہائشی 55 سالہ محمد مشتاق بھی ایک ایسے ہی شخص ہیں جنہوں نے 11 جنوری 2024 کو پولیس کو بروقت اطلاع دے کر اپنی 12 سالہ بھتیجی ثناء رفیق کی زبردستی شادی کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں اس شادی کا علم وقوعہ سے چند روز قبل ہوا تھا جس پر انہوں نے اپنے بھتیجے کو اس کام سے منع کیا لیکن وہ نہ مانا جس پر انہوں نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ محمد مشتاق کے مطابق ان کے بھائی کی وفات کے بعد ان کا بھتیجا جائیداد کے حصول اور پیسوں کی خاطر اپنی کم عمر بہن کی شادی ایک 40 سالہ مرد سے کروانا چاہتا تھا۔

فیصل آباد میں ایسا ہی ایک اور واقعہ جون 2020ء میں پیش آیا تھا جس میں محلہ احمد آباد کے رہائشی جمال حیدر نے ایک 13 سالہ مسیحی لڑکی کی جبری شادی وتبدیلی مذہب کی کوشش کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس دوران انہیں مذہب کی بنیاد پر مسیحی خاندان کی مدد کرنے سے روکنے کی بھی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنے مسیحی ہمسائے کو مصیبت کی گھڑی میں اکیلا چھوڑنے سے انکار کر دیا اور بچی کی بحفاظت واپسی تک قانون جنگ لڑنے میں اس کے والد کا ساتھ دیتے رہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسف کی طرف سے مارچ 2022 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق https://www.unicef.org/pakistan/topics/child-marriage پاکستان میں 46 لاکھ خواتین کی شادیاں 15 سال کی عمر سے پہلے جبکہ ایک کروڑ 89 لاکھ خواتین کی شادیاں 18 سال کی عمر سے پہلے ہوئی ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق اگرچہ 1993ء سے 2018ء کے عرصے میں 18 سال سے کم عمری میں شادیوں کی شرح 37 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد اور15 سال سے کم عمر میں شادیوں کی شرح 9 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد پر آ گئی ہے۔ تاہم پاکستان اب بھی دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں کم عمری کی شادیوں کا رجحان خطرناک حد تک زیادہ ہے اور ہر سال تقریباً چھ لاکھ سے زائد لڑکیوں کی شادیاں 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہیں۔

یونیسیف پاکستان نے چائلڈ میرج کی روک تھام کے لئے “مثبت مردانگی” کا تصور متعارف کرایا ہے، اس پروگرام کے ذریعے مردوں اور لڑکوں (باپ، بھائی، شوہر اور بااثر مرد شخصیات جیسے مذہبی رہنما) کو اس سلسلے میں تعاون پر راغب کرنے کے لئے شراکتی اقدامات اور رول ماڈلنگ پر کام کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں بچوں کی پیدائش کے اندراج کی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ بچوں کے وجود اور شناخت کے قانونی ثبوت کی موجودگی یقینی بنائی جاسکے کیونکہ عمر کے درست ریکارڈ کی موجودگی کم عمری کی شادیوں کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے قائم قومی ادارہ نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف وومن کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لئے قانون کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے لڑکیوں کی زندگیوں پر پڑنے والے منفی اثرات سے متعلق عوامی آگاہی بڑھانے پر کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ریاست کی سطح پر جو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اس میں سب سے پہلا کام یہ ہے کہ چائلڈ میرج ریسٹرنٹ ایکٹ 1929ء میں ترمیم کے لئے این سی ایس ڈبلیو کی طرف سے تیار کردہ بل کو قانون کی شکل دی جائے۔

نیشنل کمیشن آن سٹیٹس آف وومن کی چیئرپرسن نیلوفر بختیار نے بتایا ہے کہ یہ بل سینیٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے فورمز سے پہلے ہی تائید حاصل کر چکا ہے، اس بل کو اب چھٹی مرتبہ منظوری کے لئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ کم عمری کی شادیاں روکنے کے لئے اس مجوزہ بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایسے افراد کو “بچہ” قرار دیا جائے جو 18 سال سے کم عمر ہیں۔

اس طرح نکاح رجسٹریشن کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی موجودگی سے مشروط کرنے، 18 سال سے کم عمری کی شادی پر قید کی سزا کو ایک ماہ سے بڑھا کر دو سے تین سال تک بڑھانے اور جرمانہ ایک ہزار روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔

علاوہ ازیں اسی ماڈل پر صوبائی قوانین کو تبدیل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ ملک بھر سے کم عمری کی شادیوں کے دیرینہ مسئلے کو جڑ سے ختم کیا جا سکے۔

نیلوفر بختیار کہتی ہیں کہ آئین میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ کسی شہری سے جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ اس بل کا مقصد آئینی حقوق کو نافذ کرنا اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ انہیں شادی کے بہانے جنسی زیادتی اور استحصال سے بچایا جا سکے۔

ان کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ بچوں اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کئے بغیر معاشی و سماجی ترقی کا حصول ناممکن ہے۔ اس قانون کی منظوری کے ساتھ ساتھ وفاقی و صوبائی حکومتوں کا اس قانون پر مربوط عمل درآمد بھی انتہائی ضروری ہوگا کیونکہ ہمارے ملک کا بہتر مستقبل ہمارے بچوں اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں پوشیدہ ہے.

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

متعلقہ اشاعت