خبریں

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ریاست کولوراڈو کے بعد مین سے بھی صدارتی الیکشن کیلئے نااہل

امریکی ریاست کولوراڈو کے بعد مین سے بھی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا، انہوں نے انتخابی مہم کے ریاستی فیصلےکو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے چیلنج کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق ریاست مین نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام صدارتی پرائمری بیلٹ پر آنے سے روک دیا، سیکریٹری آف اسٹیٹ نے بتایا کہ سابق امریکی صدر کو شہریوں کو بغاوت پراکسانےکے لیے نااہل قرار دیا گیا۔

دوسری جانب، ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے ریاستی فیصلےکو متعصبانہ قرار دیتے ہوئے چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی ریاست مشی گن کی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نااہل کرنے سے متعلق درخواست سننے سے انکار کرتے ہوئے انہیں پرائمری الیکشن کی اجازت دے دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے مختصر فیصلے میں ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کو پرائمری الیکشن کے معاملے پر فیصلہ نہیں دینا چاہیے۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے انہیں بیلٹ سے ہٹانے کی کوشش عدالت نے بالکل درست اور واضح طور پر مسترد کردی ہے۔

مشی گن سپریم کورٹ نے کولوراڈو سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغاوت کیس میں ڈونلڈ ٹرمپ پر لگائی گئی پابندی آئین سے متصادم ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کے 4 ووٹرز کی طرف سے اس اپیل کی سماعت نہیں کرے گی جس میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر کو 6 جنوری 2021ء کو امریکی کیپیٹل ہل پر حملے میں ان کے کردار کے لیے 27 فروری کو ریپبلکن پرائمری سے روک دیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے 19 دسمبر کو امریکی ریاست کولوراڈو کی عدالت نے کیپٹل ہل پر حملے کے جرم میں ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی الیکشن کی پرائمری کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ سابق صدر نے 6 جنوری 2021 کو اپنے حامیوں کے ذریعے حملہ کرایا،کیپٹل ہل پر حملے میں ملوث ہونےکے باعث ٹرمپ صدارتی امیدوار بننے کے اہل نہیں۔

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

متعلقہ اشاعت

Qalam Kahani We would like to show you notifications for the latest news and updates.
Dismiss
Allow Notifications