بلاگ

جب ’حکم کا اکا‘ تاش کے پتے چھاپنے والے شخص کی پھانسی کی وجہ بنا

انگریزی زبان میں ’ایس آف سپیڈز‘ کہلانے والا یہ پتہ جسے اردو میں ’حکم کا اکا‘ کہتے ہیں، ’ڈیتھ کارڈ‘ یعنی موت کا پتہ یا ’ٹیکس کارڈ‘ بھی کہلاتا ہے۔

پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں حکم کے اکے کو برطانوی فوج کے ایک ڈویژن اور برطانوی انڈین آرمی کے ایک ڈویژن کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔

ویتنام جنگ کے دوران بھی حکم کا اکا، جسے ’موت کا کارڈ‘ بھی کہتے ہیں، نفسیاتی جنگ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ امریکی فوجی اس کارڈ کو لاشوں کے ساتھ چھوڑ دیا کرتے یا چھاپوں کے دوران دیہات میں پھیلا دیا کرتے تھے۔

چند امریکی فوجی اس پتے کو امن مخالف علامت کے طور پر اپنے ہیلمٹ میں لگا لیا کرتے تھے۔ امریکی فوجیوں کا ماننا تھا کہ اس کارڈ کے استعمال سے ویت کانگ سپاہی خوفزدہ ہو جائیں گے اور ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ ایسا ہوا نہیں کیوں کہ اس پتے کے ساتھ ویتنام میں کسی قسم کی توہمات نہیں جڑی تھیں لیکن کہا جاتا ہے کہ امریکی فوجیوں کے حوصلے بلند کرنے میں اس پتے کا اہم کردار رہا۔

2003 میں امریکی فوجیوں کو انتہائی مطلوب عراقی افراد کی فہرست جاری ہوئی تو یہ بھی پتوں کی شکل میں تھی جس میں ہر ایک پتے پر ایک مطلوب عراقی اہلکار کی تصویر موجود تھی۔

2003 میں امریکی فوجیوں کو انتہائی مطلوب عراقی افراد کی فہرست جاری ہوئی تو یہ بھی پتوں کی شکل میں تھی جس میں ہر ایک پتے پر ایک مطلوب عراقی اہلکار کی تصویر موجود تھی

صدام حسین کی شکل حکم کے اکے پر موجود تھی جبکہ ان کے بیٹے کی تصویر چڑیا کے اکے پر لگی ہوئی تھی۔

لیکن 1805 میں لندن کے ایک رہائشی شخص کے لیے حکم کا اکا واقعی موت کا پتہ ثابت ہوا جب اس نے ٹیکس سے بچنے کی کوشش میں اس پتے کا استعمال کیا اور اسے پھانسی دے دی گئی۔

واضح رہے کہ یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جوا قابل ٹیکس آمدن شمار کیا جاتا ہے اور کئی ریاستوں کی سرکاری آمدن کا ذریعہ بھی ہے۔

صرف برطانیہ میں 2024-25 سال میں جوئے پر عائد ٹیکسوں سے تین عشاریہ چھ ارب پاؤنڈ اکھٹا ہو گا۔ واضح رہے کہ جوا کھیلنے والوں کے منافع پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا بلکہ جس رقم سے جوا کھیلنے کی ابتدا ہوتی ہے، وہی وابل ٹیکس ہوتا ہے۔

لیکن ایک وقت تھا جب قانون مختلف تھا۔ 1588 سے 1960 کے درمیان تاش کے پتوں کے کھیل پر ٹیکس لگتا تھا اور 1765 میں ایک قانون متعارف کروایا گیا جس کے تحت پتے بنانے والوں اور بیچنے والوں کو یہ ٹیکس دینا ہوتا تھا۔

اس زمانے میں ٹیکس آفس ہی حکم کا اکا پرنٹ کرتا تھا جس کے لیے دھاتی پلیٹیں استعمال ہوتی تھیں اور چھپائی کا عمل کافی مہنگا تھا۔ یہ پتے خرید کر ٹیکس ادا کیا جاتا تھا اور اسی لیے ان پتوں کی نقالی کرنا مشکل تھا۔

مخصوص دھاتی پلیٹوں کے استعمال اور مہنگے چھپائی کے عمل کی وجہ سے ان پتوں کی نقالی کرنا مشکل تھا

برطانیہ کی آکسفورڈ سٹریٹ کے رچرڈ ہارڈنگ کے پاس بھی کارڈ بنانے اور بیچنے کا لائسنس تھا جن کا کاروبار کافی اچھا تھا لیکن وہ ٹیکس آفس سے زیادہ پتے نہیں خریدتے تھے۔ اس معاملے پر تفتیش کا آغاز ہوا تو ٹیکس دفتر کے ایک اہلکار نے ان کی دکان سے پتے خریدے اور دیکھا کہ حکم کا اکا اصلی نہیں ہے یعنی وہ سرکاری پرنٹنگ پریس سے نہیں چھپا تھا۔

تاہم اس اہلکار نے اپنے شک کو مکمل طور پر ثابت کرنے کے لیے مذید پتے خریدے۔ اس دوران ان کا شک تو ثابت ہو گیا لیکن رچرڈ ہارڈنگ کو بھنک پڑ گئی کہ اس کی تفتیش ہو رہی ہے۔ جب ٹیکس آفس نے اس کی دکان پر چھاپا مارا تو ایک بھی جعلی حکم کا اکا نہ نکلا۔

ٹیکس اہلکار نے لیکن ہار نہ مانی اور رچرڈ کے چند دوستوں سے پوچھ گچھ کی گئی۔ معلوم ہوا کہ ایک دوست نے رچرڈ کو اپنی ایک عمارت کا پچھلا حصہ کرائے پر دے رکھا تھا۔ اس جگہ سے حکم کے 2000 اکے دریافت ہوئے۔ رچرڈ کی بیٹی کے گھر سے مذید پتے ملے اور پھر وہ پرنٹنگ پلیٹیں بھی مل گئیں جن کو استعمال کرتے ہوئے حکم کے اکے کی سرکاری نقل بنائی جا رہی تھی۔

جب مقدمہ چلا تو یہ بھی ثابت ہوا کہ رچرڈ اپنے پتے سرکاری ریٹ پر ہی بیچ رہے تھے لیکن ٹیکس نہیں دے رہے تھے۔

یہ بھی علم ہو اکہ انھوں نے ہیو لیڈبیٹر نامی شخص سے کاپر کی نقش نگاری کروانے کی کوشش کی تھی۔

لیڈبیٹر نے عدالت کو بتایا کہ رچرڈ نے ان کو اپنے گھر بلایا اور ان سے پوچھا کہ کیا وہ کاپر پر نقش نگاری جانتا ہے؟ ’میں نے بتایا کہ نہیں تو اس نے مجھے ایک کمرے میں بند کیا اور پلیٹوں پر نقش نگاری کے لیے کہا۔‘

لیکن لیڈ بیٹر واقعی یہ کام نہیں جانتے تھے۔ انھوں نے رچرڈ کا رابطہ بننگ نامی شخص سے کروایا۔ لیکن عدالت کو بتایا گیا کہ ’بننگ نے لیڈبیٹر سے کہا کہ خدا کے لیے، تم جانتے ہو کہ یہ کیا کام ہے؟‘

ورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں جوا قابل ٹیکس آمدن شمار کیا جاتا ہے اور کئی ریاستوں کی سرکاری آمدن کا ذریعہ بھی ہے

’میں نے کہا نہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ اکے کا ڈیزائن بنوا سکتا ہے لیکن اگر اس نے ایسا کیا تو یہ کسی مجسٹریٹ کو دینا ہو گا۔‘

لیڈبیٹر کی گواہی کے مطابق ایک دن رچرڈ ان کے پاس آئے اور یہ کہتے ہوئے ڈیزائن کی پلیٹیں چھپانے کی درخواست کی کہ ان کے مکان کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ ’اس لیے میں نے پلیٹیں چھپا دیں۔‘

21 ستمبر 1805 کے دن رچرڈ کو مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا سنا دی گئی جس پر دو ماہ بعد عمل بھی ہو گیا۔

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

متعلقہ اشاعت

Qalam Kahani We would like to show you notifications for the latest news and updates.
Dismiss
Allow Notifications