خبریںدلچسپ و عجیب

عمر بن اومران: وہ شخص جو گمشدگی کے 26 سال بعد ہمسائے کے تہہ خانے سے زندہ ملا

عمر نے حکام کو بتایا کہ قید کے دوران انھوں نے متعدد بار اپنے اہلخانہ کو دیکھا تھا لیکن وہ مدد کے لیے ان کو آواز نہیں دے سکتے تھے کیوں کہ ان کو قید کرنے والے نے انھیں اس بات پر قائل کر رکھا تھا کہ ان پر جادو ہو چکا ہے۔

عمر بن اومران 19 سال کے تھے جب اچانک ایک دن لاپتہ ہو گئے۔

یہ 1990 کی دہائی تھی اور الجزائر میں خانہ جنگی ہو رہی تھی۔ حیران کن طور پر اس واقعے کے 26 سال بعد عمر بن اومران ال گودید قصبے میں اپنے گھر سے چند ہی میٹر دور ایک ہمسائے کے مکان کے تہہ خانے سے زندہ ملے۔

اب ان کی عمر 45 سال ہو چکی ہے اور انھیں اس جگہ سے صرف 200 میٹر دوری پر زندہ پایا گیا جہاں وہ پلے بڑھے تھے۔

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ عمر بن اومران کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے الزام میں ایک 61 سالہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔

1998 میں جس وقت عمر بن اومران لاپتہ ہوئے تو اس زمانے میں الجزائر حکومت اور شدت پسند 

گروہوں کے درمیان کئی برس سے خانی جنگی جاری تھی۔

عمر کی یوں اچانک گمشدگی کے بعد ان کے خاندان کو یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں وہ بھی اس جنگ میں ہلاک یا لاپتہ ہو جانے والوں میں سے ایک نہ بن گئے ہوں۔

تاہم 12 مئی کو، ان کی گمشدگی کے 26 سال گزر جانے کے بعد، انھیں مقامی حکام کے مطابق بھوسے کے ڈھیر تلے زندہ تلاش کر لیا گیا۔

1998 میں جس وقت عمر بن اومران لاپتہ ہوئے تو اس زمانے میں الجزائر حکومت اور شدت پسند گروہوں کے درمیان کئی برس سے خانی جنگی جاری تھی

’ظالمانہ‘ جرم

 

اس معاملے میں استغاثہ کے مطابق حکام کو ایک انجان ذریعے سے اطلاع ملی تھی کہ عمر اپنے ہمسائے کے گھر میں ہیں۔

عدالتی اہلکار نے بتایا ہے کہ اس اطلاع کے بعد اٹارنی جنرل نے تفتیش کا حکم دیا اور افسران اس گھر گئے۔

بیان کے مطابق 12 مئی کو رات آٹھ بجے 45 سالہ عمر بن اومران کو ان کے ہمسائے کے مکان کے تہہ خانے سے زندہ حالت میں تلاش کر لیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اسے پکڑ کر حراست میں لے لیا گیا۔ عمر کے بھائی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق مبینہ اغوا کی واردات کی وجہ ایک وراثتی تنازع تھا۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش جاری ہے اور عمر کو طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

الجزائر کے پراسیکیوٹر آفس کے ترجمان نے اس جرم کو ’ظالمانہ‘ قرار دیا ہے۔

عمر نے حکام کو بتایا کہ قید کے دوران انھوں نے متعدد بار اپنے اہلخانہ کو دیکھا تھا لیکن وہ مدد کے لیے ان کو آواز نہیں دے سکتے تھے کیوں کہ ان کو قید کرنے والے نے انھیں اس بات پر قائل کر رکھا تھا کہ ان پر جادو ہو چکا ہے۔

مقامی خبروں کے مطابق عمر کی والدہ 2013 میں یہ جانے بغیر ہی انتقال کر گئی تھیں کہ ان کا بیٹا زندہ ہے۔

آپ کا ردعمل کیا ہے؟

متعلقہ اشاعت

Qalam Kahani We would like to show you notifications for the latest news and updates.
Dismiss
Allow Notifications